فجار کی جنگ
فجار کی جنگ خانہ کعبہ میں تانبے کے دو بت تھے۔ان کے نام اساف اور نائلہ تھے۔طواف کرتے وقت مشرک برکت حاصل کرنے کے لئے ان کو چھوا کرتے تھے ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ آپ ﷺ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے، میں بھي آپ کے ساتھ تھا۔جب میں طواف کے دوران ان بتوں کے پاس سے گزرا تو میں نے بھی ان کو چھوا نبی پاک ﷺ نے فوراﹰ فرمایا:ان کو ہاتھ مت لگاؤ: اس کے بعد ہم طواف کرتے رہے،میں نے سوچا،ایک بار پھر بتوں کو چھونے کی کوشش کروں گا تاکہ پتا تو چلے،ان کو چھونے سے کیا ہوتاہے اور آپ نے کس لیے مجھے روکا ہے،چنانچہ میں نے ان کو پھر چھولیا،تب آپ نے سخت لہجے میں فرمایا:کیا میں نے تمہیں ان کو چھونے سے منع نہیں کیا تھا۔ اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں،نبی پاک ﷺ کبھی بھی کسی بت نہیں چھوا،یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو نبوت عطا فرمادی اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ اسی طرح الله تعالٰی حرام چیزوں سے بھي آپ کی حفاظت فرماتے تھے مشرک بتوں کے نام پر جانور قربان کرتےتھے،پھر یہ گوشت تقسیم کردیا جاتاتھا یا پکا کر کھلا دیا جاتاتھا، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسا گوشت نہ کھایا،خود آپ نے ایک بار ارشاد فرمایا:...